ڈاکٹر افروز عالم ایک گلنار شخصیت : صابر عمر گالسولکر۔ کویت - Aks-e-Kokan

Home Top Ad

Post Top Ad

اتوار، 21 مارچ، 2021

ڈاکٹر افروز عالم ایک گلنار شخصیت : صابر عمر گالسولکر۔ کویت

ڈاکٹر افروز عالم ایک گلنار شخصیت

صابر عمر گالسولکر۔ کویت



صابر عمر گالسولکر۔ کویت

کویت کی اردو کہکشاں میں کبھی ستاروں کی کمی نہیں رہی مگر ان ستاروں میں ایک ستارہ جو 1999ء  میں طلوع ہوا پھر ایسی آب و تاب کے ساتھ چمکا کہ وہ کویت کی ادبی فضا ہی میں نہیں بلکہ عالمی اردو ادب میں بھی اپنی آب و تاب بکھیرتا گیا۔ اپنے نام کے مشابہ یہ ستارہ آج اردو دنیا پر عالم افروز ہے جسے ہم افروز عالم کے نام سے جانتے ہیں۔ افروز عالم سے میری پہلی ملاقات 2005ء میں ہوئی۔ وہ میرا پہلا مشاعرہ تھا۔ مشاعرہ کے اختتام پر عبداللہ ساجد نے میری ملاقات افروز عالم سے کروائی تھی اور کہا تھا تم دونوں ہم عمر ہو تم دونوں کی خوب جمے گی۔ پتہ نہیں وہ عبداللہ ساجد کا تجربہ تھا یا دعا تھی جو قبول ہوئی۔ اور ہمارا یارانہ ادبی اور نجی دونوں معاملوں میں پروان چڑھتا رہا۔ 

افروز عالم کو ادبی اور جسمانی اعتبار سے اردو ادب کی بھاری بھرکم شخصیت قرار دیا جا سکتا ہے۔ جسمانی اعتبار سے تو آپ کی شخصیت بھاری بھرکم ہے ہی مگر ادبی اعتبار سے بھی افروز عالم کچھ کم بھاری بھرکم نہیں ہے ان کی ادبی قد کاٹھی بھی کافی نکلی ہوئی ہے کئی کتابوں کے مصنف ہیں کئی ادبی تنظیموں سے وابستہ ہیں اردو دنیا کا کوئی کونہ ایسا نہیں جہاں افروز عالم کی شخصیت پر چرچے نہیں ہوتے ہوں گے۔ سعودی عرب، دبئی امارات، قطر بحرین پاکستان ترکی جیسے ممالک بھی آپ کی قدم بوسی کر چکے ہیں۔ مختلف ملکوں کے سفر نے انہیں تہذیبی معاشروں کے مطالعے کا موقع فراہم کیا جس سے ان کی شخصیت میں مزید گہرائی اور گیرائی آتی گئی۔ افروز عالم نے اپنے تجربات اور مشاہدات کا اپنی شاعری میں بھی بھر پور استعمال کیا۔  اپنی روزگار کی مصروفیت کے باوجود افروز عالم کا تخلیقی سفر کبھی متاثر نہیں ہوا۔ ایک کے بعد ایک دیگر کئی کتابیں منظر ِ عام پر آتی گئیں۔

افروز عالم اپنی ذات میں کئی فنکاروں کا مجموعہ ہیں۔ کبھی آپ اُن سے گفتگو کر کے تو دیکھیں۔ وہ ہر موضوع پر انتہائی فصاحت اور بلاغت سے گفتگو کرنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے ان کے اندر کئی روحیں آباد ہیں جو آپس میں ایکدوسرے سے گتھم گتھا رہتی ہیں۔ جو دورانِ گفتگو بیک وقت بولتی پڑتی ہیں۔ ابھی شاعر چپ نہیں ہوتا کہ ایک ادیب بولنے لگتا ہے۔ابھی وہ چپ نہیں ہو پاتا کہ کہ ایک ماہر لسانیات اس کی جگہ لے لیتاہے ابھی اس کی بات مکمل نہیں ہوتی کہ ایک مورخ بول پڑتا ہے۔اسی دروان دیگر روحیں بھی بے چین ہو اٹھتی ہیں وہ بھی بول پڑتی ہیں جیسے صحافی کی روح، سیاست دان کی روح، نقاد کی روح، اور نہ جانے کون کون سی روحیں بول پرتی ہیں۔ افروز عالم کی یہ گفتگو برائے تفریح نہیں ہوتی بلکہ ان کی باتوں سے ان کے وسیع مطالعے اور مشاہدے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔خاموش رہنا افروز عالم کی شرشت ہی میں نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ افروز عالم خاموش رہنا نہیں جانتے۔  وہ خاموش بھی رہتے ہیں مگر صرف تصویروں میں۔ اس لئے اگر آپ چاہتے ہیں کہ کبھی افروز عالم بھی آپ کی باتیں سنیں تو آپ یا تو اُن کی تصویر سے باتیں کریں یاانہیں کسی محفل کی صدر یامہمانِ خصوصی بنا دیجئے۔ مگر ناظم کبھی نہیں بنانا۔کیونکہ کبھی کبھی نظامت کرتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ اگلے شاعر کو بھی دعوتِ کلام دینی ہوتی ہے اور کبھی شاعر کو مائیک پر تو بُلا لیتے ہیں مگر شاعر کا کلام خود ہی سنانے لگ جاتے ہیں۔ 

افروز عالم برسوں سے خوشبو کے کاروبار سے وابستہ ہیں وہی خوشبو ان کے مزاج کا بھی حصہ ہے۔ وہ الرصاصی پرفیوم میں ملازم تھے۔ مالکان نے اپنے ملازموں پر نظر رکھنے کے لئے وہاں ایک تیسری آنکھ یعنی خفیہ کیمرہ لگا رکھا تھا۔ افروز عالم کی وہاں ملازمت کے بعد مالکان بہت خوش تھے کیونکہ وہ جب بھی کیمرہ سے شوروم کا نظارہ کرتے انہیں وہاں کسٹمرس کی بھیڑ نظر آتی تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ ٖافروز کے آنے سے ان کا کاروباربڑھ گیا ہے۔ مگر ہوا کچھ اور کاروبار تو وہی کا وہی رہا البتہ پرفیومس کے سیمپلس کی بوتلیں زیادہ ختم ہونے لگیں۔تب انہیں اس بات کا اندازہ ہوا کی نظر آنے والی بھیڑ کسٹمرس سے زیادہ افروز عالم کے دوستوں کی ہے۔افروز عالم اپنے کسٹمرس کو مشورے بھی مفت تقسیم کیا کرتا تھا۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک افریقی نسل کا کسٹمر شوروم میں آیا جو اپنے کپڑے اور حلیے ہی سی تیسری دنیا کی مخلوق معلوم ہوتا تھا۔ اس نے آتے ہی افروز عالم سے کہا "سر کوئی اچھا سا پرفیوم مجھے بھی دیجئے" افروز عالم جو کافی دیر سے دیدہئ حیرت سے اس کے دیدار میں منہمک تھا۔ اچانک ہی بول پڑا " سر آپ کو پرفرفیوم کی کیا ضرورت ہے آپ کبھی کبھی نہا لیا کرے یہی بہت ہے "۔ افروز عالم سے ایسے کئی واقعات وابستہ ہیں۔ 

افروز عالم سراپا محبت بن کر یار دوستوں میں گھرے رہتے ہیں۔  ان کے یہاں میزبانی کے دروازے بھی ہمشہ کھلے رہتے ہیں۔ کویت میں آنے والا ہر شاعر بھلے ہی کسی کی دعوت پر تشریف لائے افروز عالم کی میزبانی اس کے لئے ہمیشہ حاضر رہتی ہے اور یہ میزبانی محض ملاقاتوں تک محدود نہیں ہوتی بلکہ سیر و تفریح اور تحفہ تحائف بھی اس کا حصہ ہوتے ہیں۔ اس لئے افروز عالم اگر ۵۳ دن کی چھٹیوں پر وطن جائے اور ان میں سے ۵۱  یا  ۰۲  دن مختلف ریاستوں میں ان کے اعزاز میں مشاعرے اور محفلیں سجتی رہیں تو اس میں تعجب کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئیے۔ افروز عالم یاروں کے یار ہیں دوستوں پر جان نچھاور کرنا افروز عالم کے فرضِ اولین میں شمار ہوتا ہے۔ چائے کبھی اکیلا نہیں پیتا اس کے ساتھ ہمشہ ہی کوئی نہ کوئی ہم پیالہ ضرور ہوتا ہے۔ اگر غلطی سے کبھی تنہائی کی نوبت آجائے تو افروز عالم ہوٹل میں تو چلا جاتا ہے مگر اپنے سامنے بیٹھے کسی شخص کو دوغزلیں اور کچھ ادبی کہانیاں سنا کر اس کے چائے ناشتے کا بِل اپنے ذمہ لے لیتا ہے۔

افروز عالم کی شاعری رومانس سے بھرپور ہے اور افروز عالم کی یہ رومانیت فطری ہے۔ افروز عالم نے جوانی میں قدم رکھتے ہی اپنے خوبرو  اور خوش کلام ہونے کا بھرپور فائدہ اٹھانا شروع کر دیا تھا۔ کہاوت ہے کہ ’’ پوت کے پاؤں پالنے میں "  افروز عالم کے والدین نے اس کے بڑھتے اور بہکتے قدموں کی چاپ سن لی تھی ا س لئے انہوں نے جلدی ہی اس کے قدموں میں شادی کی زنجیر بھی ڈال دی مگر افروز عالم کہاں کسی قید میں آنے والا تھا۔اس وقت تک وہ بطور شاعر اپنی اننگ کا آغاز کر چکا تھا۔ شاعری کے ساتھ ساتھ افروز عالم کی شہرت کو بھی چار چاند لگنے لگے تھے۔پھرافروز عالم شہروں شہروں، ملکوں ملکوں پھرنے لگا اور۔۔   ؎

وہ جہاں بھی گیا داستاں چھوڑ آیا

 افروز عالم کی پسند اور چاہتیں تو اور بات ہے مگر افروز عالم کے چاہنے والیوں کی تعدادبھی کچھ کم نہیں ہے بلکہ ساحر لدھیانوی سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ مگر معاملہ سارا ساحر لدھیانوی جیسا  ہی ہے۔

وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہیں ممکن 

اسے ایک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا

افروز عالم کا کوئی بھی افسانہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا بلکہ ہمشہ ایک خوبصورت موڑ تک ہی پہنچ پایا اور کچھ معاملات تو خود افروز عالم نے کہیں خوبصورت موڑدیکھ کر  رکھ چھوڑے تھے۔ افروز عالم کی یہ عشقیہ داستانیں اڑیسہ، بلرامپور، لکھنؤ، دلی، بھوپال،مہاراشٹرا، کلکتہ، کشمیر اور دیگر شہروں اور ریاستوں تک پھیلی ہوئی ہیں سوائے بہار کے کیونکہ وہاں ان کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔ افروز عالم کی یہ داستانیں سرحدیں بھی عبور کر کے پاکستان، کینڈا، جرمنی، نیو یاک ر اور آسٹریلیاتک رسائی حاصل کرچکی  ہیں ابھی افروز عالم ابھی جوان ہیں تو یہ سلسلہ مزید دراز ہوتا رہے گا۔ 

افروز عالم ان دنوں شہرت کے چوتھے آسمان پر ہے اور ممکن ہے آنے والے دنوں میں وہ شہرت کا ساتواں آسمان بھی عبور کر جائے۔ مگر میرے دوست! شہرت کی یہ چکا چوند صرف نظروں کو خیرہ کرنے کے لئے ہوتی ہے کبھی اس روشنی کے عقب میں دیکھو تووہاں اندھیرا بھی ہوتا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں تم زینہ بہ زینہ اوپر چڑھتے ہوئے اپنی کچھ خاص چیزیں نظر انداز کر رہے ہو۔ ادب کی خدمت کا جو بیڑا تم نے اٹھایا ہے اس کا اجر تو تمہیں شہرت اور کامیابی کی صورت میں ضرور ملے گا اور مل بھی رہا ہے۔مگر میرے دوست اس کے لئے کہیں تم اپنی فیملی لائف  کے ساتھ ساتھ اپنی فیملی کے وقت اور جذبات کی قربانی تو نہیں دے رہے ہو۔ اور اگر تم ایسا کر رہے ہو تو یہ بہت بڑی قربانی ہے۔ کاش تم اس بات کو سمجھ سکو۔ تم ایک شاعر ہو۔تمام بحروں کے ا وزان تم جانتے ہو ہر لفظ کی اہمیت اور حرمت تمہیں معلوم ہے۔  تم اعتدال کے معنی سے بھی بخوبی واقف ہو۔ امید ہے تم فیملی، شاعری و شہرت سبھی کو بخوبی manage کر پاؤگے۔ 

افروز عالم کو کہیں بھی بہ آسانی نظر انداز نہیں کیاجاسکتا اور وہ خود اپنے آپ کو منوانے کے فن سے بخوبی واقف ہے۔ وہ کسی نہ کسی طرح لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرہی لیتے ہیں اور یہ خوبیاں کم کم لوگوں میں ہی پائی جاتی ہے۔ اس لئے افروز عالم کے دوستوں کے ساتھ ساتھ دشمنوں کی یا حاسدوں کی تعداد بھی کچھ کم نہیں ہے۔ افروز عالم اپنی بات کہنے میں پس و پیش نہیں کرتا اورجب بات کرتا ہے تو کسی انجام کو خاطر میں لاتا۔اس وجہ سے بارہا گفتگو بحث اور بحث تلخ کلامی تک جا پہنچتی ہے۔اسکی وجہ کچھ افروز عالم کا وہ احساسِ برتری بھی ہے۔ کیونکہ ہر انسان میں یکساں قوت برداشت بھی تو نہیں ہوتی۔ افروز عالم نے کم وقت میں وہ ادبی خدمات جو انجام دی ہیں جن کے لئے لوگ عمر گنوا دیتے ہیں۔اب افروز عالم کو اور ان کی ادبی خدمات کو سمجھنے اور سراہنے والے کھل کر سامنے آرہے ہیں۔ ان کے اعزاز میں بے شمار پروگرام منعقد ہوچکے ہیں  اور آئندہ بھی ہوتے رہیں گے۔ مگر  

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہے

افروز عالم ان دنوں ادب کے تیز ترین رتھ پر سوار ہیں۔اور بڑی تیزی سے ہر ادبی معرکوں سے سرخرو ہو کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ خدا کرے آپ کے جنوں کو کسی کی نظر نہ لگے اور کامیابیاں ہمیشہ آپ کی قدم بوسی کرتے رہیں۔ میری دعاہے اللہ آپ کوشاد و آباد رکھیں۔ آمین


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Bottom Ad