فروس ۔ کوکن کا علی گڑھ - Aks-e-Kokan

Home Top Ad

Post Top Ad

بدھ، 21 اپریل، 2021

فروس ۔ کوکن کا علی گڑھ



 رفیق ابراہیم پرکار؍ کوکب شاہ ٹھاکور

کھیڈ سے داپولی جاتے ہوئے آٹھ کلومیٹر کے بعد آپ کو بالکل لب سڑک ناریل، کھجور، آم اور کٹھل سے گھرے ہوئے بڑے بڑے مکانات ملیںگے۔ یہ سلسلہ تقریباً دو کلومیٹر دراز ہے۔ یہی رتناگیری ضلع کا مشہور گاؤں فروس ہے۔ فروس میں تعلیمی بیداری آٹھ دہائی پرانی ہے۔ اسی لیے ستّر،اسّی کے عشرے میں رتناگیری اور رائے گڑھ کے بیشر اسکولوں میں یہاں کے اساتذہ تدریسی خدمات انجامدیتے تھے۔

فروس کی وجہ تسمیہ بھی دلچسپ ہے۔ روایت ہے کہ عرب ملکوں سے جو گھوڑے بحر عرب کے راستے ہرنئی اور دابھول آتے تھے وہ یہیںپر رکھے جاتے تھے۔ عربی میںفرس جمع فرسان گھوڑے کو کہتے ہیں اس لیے اس گاؤں کا نام بھی فروس پڑگیا۔ فروس میں تقریباً اس وقت مسلم آبادی ۴۵۰؍گھروں پر مشتمل ہے۔ فروس میںکل پانچ محلے ہیں: (۱)تحتانی محلّہ، (۲) چوگن محلّہ، (۳)ٹیکری محلّہ،(۴)فنس محلّہ، (۵)آٹھ کی محلّہ۔ یہاں کا سب سے بڑا خاندان پرکار ہے۔ معروف سنگئ، مہاڑک اور علوی یہا ں کے دیگر خاندان ہیں۔ جناب جاوید بشیر پرکار صاحب اس وقت جماعت کے چیف متولی ہیں۔

فروس اس اعتبار سے خوش نصیب گاؤں ہے کہ یہاں تعلیمی بیداری ایک صدی پرانی ہے۔ فروس کے کچھ لوگ بیسویں صدی میں افریقہ میں چلے گئے۔ کیپ ٹاؤن میں انھوں نے ایک سوسائٹی انجمن اسلام لیگ آف کیپ ٹاؤن کے نام سے بنائی۔ یہ ۱۹۱۲ء کی بات ہے۔ اس سوسائٹی کے لوگ گاؤں کی فلاح و بہبود کے لیے کوشاں رہے۔ اسی سوسائٹی نے ۱۹۴۰ء میںسراج الاسلام کے نام سے اردو میڈیم ہائی اسکول قائم کیا جو ۱۹۵۶ء میں مراٹھی میڈیم میں تبدیل ہوگیا۔ اسکول کے لیے اپنی ڈھائی ایکڑ مزین عظیم الدین پرکار بالاآباء مرحوم نے وقف کی۔ اسکول کی تعمیر کے لیے گاؤں کی معزز ہستی وجیہہ الدین احمد پرکار ایڈوکیٹ جو ایم ایل اے بھی ہوئے انھوں نے بیرون ملک کے سفر کیے اور گاؤں کے مخیّرین کے تعاون سے ایک شاندار عمارت تعمیر کروائی جو آج تک ہائی اسکول اورکالج کی ضروریات کے لیے کافی ہے۔ کسی زمانے میںیہ ایک اقامتی اسکول تھا جس میںر تناگیری اور رائے گڑھ کے دور دراز کے طلبہ رہائش پذیر ہوتے تھے۔ فروس آج تعلیمی اعتبار سے رتناگیری ضلع میں اوّل ہے یہ اسی اسکول کا فیض ہے۔ اس اسکول کی تعمیر و ترقی میں شمس الدین محمد علی پرکار، شمس الدین کمال الدین پرکار، شریف علی پرکار ایڈوکیٹ، محمد علی پرکار آجا کھوت نے کلیدی کردار اداکیا۔

فروس ایک دیہات ہونے کے باوجود تمام بنیادی سہولیات سے آراستہ ہے۔ کھیڈ۔ داپولی شاہرہ پر واقع ہونے کی وجہ سے دن رات سفر کے لیے بسیں ملتی ہیں۔ مراٹھی میڈیم ہائی اسکول کے ساتھ آئیڈیل انگلش میڈیم ہائی اسکول بھی ہے۔ اس اسکول کو گاؤں کی تعلیم یافتہ خواتین چائلڈ ویلفیئر سوسائٹی چلاتی ہیں۔ یہ اسکول اپنی معیاری تعلیم کے لیے معروف ہے۔ گاؤں میں سائنس اور کامرس کے جونیئر کالجز ہیں۔ اسکے بعد لوگ اعلیٰ تعلیم کے لیے داپولی، پونہ اور ممبئی وغیرہ کا سفر کرتے ہیں۔ فروس میں دینی تعلیم کے لیے مدرسہ تعلیم القرآن ۱۹۸۳ء میں قائم ہوا۔ اس مدرسہ کے لیے احمد علی پرکار مرحوم نے اپنی زمین وقف کردی۔ کمال یہ ہے کہ ان کے پاس یہی ایک زمین تھی۔ اللہ انھیںشایان شان بدلہ دے۔فروس کے اس مدرسہ میںناظرہ قرآن اور حفظ قرآن کی تعلیم ہوتی ہے۔ یہ مدرسہ قاری دوؤد کدے حفظہ اللہ کی نگرانی میں جاری ہے۔ اس مدرسہ کے جملہ اخراجات فروس کے مخیّرین ہی پورا کرتے ہیں۔

گاؤں میں ضلع پریشد کا سرکاری اسپتال بھی ہے جس میں اس وقت ڈاکٹر ملّا خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر عبدالستار ونتولے کا دواخانہ ہے اور ڈاکٹر چیلے بھی پریکٹس کرتے ہیں۔

بینکنگ خدمات کے لیے تین بینک (۱) اسٹیٹ بینک آف انڈیا، (۲) بینک آف انڈیا(۳)رتناگری آر ڈی سی بینک ہیں۔ پوسٹ آفس میں بھی بینکنگ خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔

فروس کا ایک قابل تقلید قدم بیت المال کا قیام ہے۔ یہ ادارہ پچھلے کئی سالوں سے سرگرم ہے۔ گاؤں کے لوگ اپنی زکوٰۃ یہاں جمع کرتے ہیں۔ اس بیت المال سے بیواؤں کو ماہانہ وظیفہ، غرباء و ناداروں کو تعاون، ضرورتمندوں کو طبی امداد اور مستحق طلبہ کی مکمل تعلیمی کفالت کی جاتی ہے۔ عبدالقیوم احمد علی پرکار، ایف ٹی پرکار، کمال الدین پرکار اور ظہیر عبدالغنی پرکار اس کے ٹرسٹیز ہیں۔ ماشاء اللہ بیت المال کی وجہ سے گاؤں سے غربت کے مسائل بہت حد تک کم ہوگئے ہیں۔

جناب عبدالرؤف پرکار صاحب نے اپنے بیٹے نجیب کی حادثاتی موت کے بعد ان کے نام سے ایک خیراتی ادارہ نجیب دینی ٹرسٹ کے نام سے بنایا۔ اس ٹرسٹ کے ذریعہ دسیوں سال سے بہت سے تعلیمی اور خیراتی کام انجام پاتے ہیں۔ اللہ عبدالرؤف جناب کو بہترین صحت اور طویل عمر سے نوازے (آمین)

فروس گاؤں کے سینکڑوں لوگ تعلیم وتدریس سے وابستہ تھے اور ہیں ان کا شمار آسان نہیں ہے۔ اس وقت یہاں کے جناب ایف ٹی پرکار صاحب آئیڈیل انگلش اسکول میں بطور پرنسپل خدمات انجام دے رہے ہیں۔ شہاب الدین پرکار مدرسہ اصلاح البنات گرلس کھیڈ میں ہیڈ ماسٹر ہیں۔ عبدالوہاب پرکار صاحب  مدتوں کویت یونیورسٹی میں تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد اب سبکدوش ہوکر فروس میں مقیم ہیں۔ عبدالوہاب پرکار (وہاب جناب) کی بے لوث خدمات کی وجہ سے لوگ ان کا ذکر خیر کرتے رہتے ہیں۔ فروس کی ایک متحرک شخصیت اقبال پرکار صاحب مسلم ایجوکیشن سوسائٹی داپولی کے کئی سالوں سے کلیدی عہدوں پر قائم ہیںا ور خود اپنا ایک اسکول کوکنی انگلش میڈیم اسکول کے نام سے چلاتے ہیں۔

فروس کے لوگ اس وقت کئی خلیجی اور یورپی ممالک میں برسرِ روزگار ہیں مگر سب سے زیادہ آبادی کویت میں ہے، زیادہ تر لوگ گورنمنٹ سروسیز اور مختلف ٹیکنیکل خدمات انجام دیتے ہیں جب کہ خواتین عموماً تدریسی میدان سے وابستہ ہیں۔

اللہ نے اہل فروس کو دنیاوی نعمتوں سے خوب نوازا ہے البتہ کچھ مسائل بھی ہیں جن پر یہاں کے باسیوں کو سنجیدگی سے غور و فکر کرنا چاہیے:

۱۔ عصری تعلیم میںتو فروس کو کوکن کا علی گڑھ کہا جاسکتا ہے مگر دینی تعلیم میں یہ گاؤں کوئی خاص مقام حاصل نہیں کرسکا ہے۔ گاؤں میں دینی تعلیم سے لوگوں کی دلچسپی بہت کم ہے۔

۲۔ گاؤں سے لوگ بڑی تعداد میں ہجرت کرکے دوسرے مقام پر آباد ہورہے ہیں۔ باہر آباد ہونے والے عموماً گاؤں کے مسائل سے کم دلچسپی لیتے ہیں۔ اس کی وجہ سے گاؤں کی ترقی پر منفی اثر پڑتا ہے اور تعلقات کمزور ہورہے ہیں۔

۳۔بچوں کا اپنے بزرگوں، رشتہ داروں اور خاص طور سے والدین سے رشتہ کمزور ہورہا ہے۔ بہت سے بوڑھے والدین تنہا زندگی گزار رہے ہیں۔ بچوں سے ان کی دیکھ بھال کی جو امید کی جاتی ہے اس امید پر وہ پورے نہیں اترتے۔

خدا کرکے کہ کھیڈ تعلقہ کا یہ گاؤں اور ترقی کرے اور پورے کوکن کے لیے ایک مثال ثابت ہو۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Bottom Ad