میں اپنی ذات میں کچھ بھی نہیں لیکن … - Aks-e-Kokan

Home Top Ad

Post Top Ad

جمعہ، 29 جنوری، 2021

میں اپنی ذات میں کچھ بھی نہیں لیکن …



ڈاکٹر قاسم امام (سابق صدر شعبۂ اُردو ، برہانی کالج آف کامرس اینڈ آرٹس، ممبئی)ڈ

ڈاکٹر قاسم امام
بمبئی جادوگروں کا شہر ہے۔ یہاں کھوجائیں تو ملنا مشکل اور مل جائیں تو بچھڑنا مشکل۔ کرشمہ ساز شخصیتوں کا مسکن ہے بمبئی، سماجی و مذہبی گروہ بندیاں یہاں کی زندگی کا خاصہ ہے۔ تنہا آدمی یہاں عمر بھر اجنبی رہتا ہے۔ شخصیتوں کی مقبولیت کا انحصار ساتھ رہنے والے گروہ پر ہے۔ یہ گروہ بندی آدمی کے گرد شک و شبہات کا ایسا جال


بن دیتی ہے کہ چاہتے ہوئے بھی وہ اس سے باہر نکل نہیں سکتا۔

وہ فلاں کا آدمی ہے، فلاں فلاں کا آدمی ہے اس طرح کے تبصرے اور فقرے روزکسی نہ کسی کے تعارف میں کہے اور سنے جاتے ہیں۔ میرے تعارف میں بھی شہر والے کچھ اسی طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے میں اچھا Setter ہوں، بمبئی کی زبان میں سادو، کھادو اور نہ جانے کیا کیا۔ کسی کا خیال ہے کہ دوست اور گروہ بدلتے رہنا میرا مشغلہ ہے۔ کسی کو شکایت ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ دور اور دیر تک نہیں چلتا۔ غرض کہ احباب مجھ سے زیادہ میرے بارے میں سوچتے ہیں۔ دوست حست کے پردے میںمحبت کا اظہار کرتے ہیں اور دشمن محبت کے پردے میں حسد کا۔ تعلقات میں بناتا ہوں احباب کہتے ہیں وہ کمزور ہوتے ہیں اور کسی بھی وقت ڈھیر ہوسکتے ہیں۔ بے چینی اور بے اطمینانی کے کمزور لمحے میں مجھے بھی یہ بات سچ لگتی ہے ۔ پھر اچانک بجلی کی طرح ایک احساس مجھ میں توانائی پیدا کر دیتا ہے کہ مجھے سے کہیں غلطی ضرور ہوئی لیکن میں نے غلط نہیں کیا۔ خدا گواہ ہے کہ یہ قلعے میں نے کبھی اپنی ذات کے لیے نہیں بنائے، اگر ایسا ہوتا تو میرے حصے میں کئی انعامات و اعزازات ہوتے۔ ڈھیر ساری کتابیں ہوتیں، میں کسی بینک کا ڈائریکٹر ہوتا یا کم از کسی مسلم ایرئیے کا کونسلر ضرور ہوتا۔ میں تو کچھ بھی نہیں ہوں۔ دوست کہتے ہیں جو میں ہوں اس کا مجھے اندازہ نہیں ہے … شاید … مجھے اپنی یہ بے نیازی اچھی لگتی ہے… سچ بات تو یہ ہے کہ کبھی زبان کی محبت میں، کبھی قوم کی کسی ناگہانی مصیبت میں اپنی بساط بھر کوشش کو بروئے کار لانے کے لیے میں نے تعلقات کے دروازے کھٹکھٹائے ہیں، دوستوں کے مسائل ہمیشہ پیش نظر رہے ہیں اور اگر یہ سیٹنگ ہے تو ہوا کرے۔ کسی کا آدمی بن کر میں کسی آدمی کے کام آتا ہوں تو رب العزت کا شکر گذار ہوں کہ اس نے مجھے یہ توفیق دی۔

بلا سبب میں کسی کو راستے میں چھوڑ کر نہیں جاتا۔ اگر یہ بات ہوتی تو مرحوم عبدالطیف سر سے میرے تعلقات مرتے دم تک قائم نہیں رہتے۔ ڈاکٹر شیخ عبداللہ اور حسرت خان جیسے عزیزوں اور دوستوں کی رفاقت مجھے گذشتہ ۲؍سال سے نصیب ہے۔ میرے دیرینہ تعلقات کی سب سے قابل ذکر مثال علی ایم شمی ہیں۔ پہلی ملاقات سے لے کر آج تک وہ میرے ساتھ اور میں اُن کے ساتھ ہوں۔ تقریبا ۲۲؍سال سے مجھے ان کی محبت اور رفاقت حاصل ہے۔ کسی کی شخصیت کو سمجھنے اور پڑھنے کے لیے اتنا عرصہ کافی ہوتا ہے۔ میں نے شمسی صاحب کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ میرا ان سے وہی رشتہ ہے جو ایک ادھورے مریدے کا ، کامل مرشد سے ہوتا ہے۔

شمسی صاحب کی شخصیت کے کئی اہم اور دلچسپ پہلو ہیں، اگر میں ترتیب سے بیان کروں تو ایک دفتر رنگین ہوجائے پھر بھی میری کوشش ہے کہ زندگی کے ان گوشوں پر روشنی ڈالوں جس کی سمت لوگوں نے کم ہی دھیان دیا ہے۔

میرے نزدیک ان کی زندگی کا سب سے محبوب عمل ’’حسن ترتیب‘‘ ہے… ہر کام کی ترتیب… یہ ترتیب اگر ذرا سی بگڑے تو ان کے چہرے کا رنگ بدل جاتا ہے… باوجود اس کے ان کی ترتیب کو الٹنے کا سہرا سلطان مالدار کے سر اور پلٹنے کا سہرا کچھ حد تک راقم الحروف کے سربندھتا ہے… وقت کا استعمال کوئی ان سے سیکھے۔ آزمائش کی اس گھڑی میں (جو اکثر ہمارے لیے ہوتی ہے) کبھی کبھی تو یہ لگتا ہے کہ گھڑی بھی ان کے اشارے پر ٹک ٹک کررہی ہے … شمسی صاحب کا گھر نفاست اور ڈسپلن کا اعلیٰ نمونہ ہے … عموماً یہ دیکھا گیا ہے انسان کا جو چہرہ سوسائٹی میں ہوتا ہے وہ گھر آتے ہی بدل جاتا ہے لیکن جس وقار اور شان کے ساتھ وہ باہر رہتے ہیں گھر میں وہی شان و شوکت ہے۔ ان کی حیثیت گھر میں کسی پرائم منسٹر سے کم نہیں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہر مرد کی کامیابی کے پیچھے عورت بالخصوص بیوی کا ہاتھ ہوتا ہے۔ شمسی صاحب اس اعتبار سے خوش قسمت ہیں کہ ان پیچھے ایک چھوڑ دو دو ہاتھ ہیں اور دونوں ہی اپنی اپنی جگہ مضبوط ۔ وزارت الگ الگ ہے۔ ایک وزیر داخلہ ہے تو دوسری وزیر خارجہ۔ شمسی صاحب کی کابینہ میں دونوں کو یکساں اہمیت حاصل ہے۔ یہ بڑے حوصلے اور ہمت کی بات ہے۔ دوسرے وزراء میں ان کے بیٹے، بیٹیاں، بہوئیں اور نواسے اور نواسیاں، پوتے ، پوتیاں شامل ہیں۔ وزراء مملکت میں انہوں نے مختلف شعبوں سے احباب و اقارب کو جمع کیا ہے۔ ان کی اس جمبو گورنمنٹ میں ایک نقری اپوزیشن بھی ہے جو ہمیشہ رہتی ہے اور وہ ہے ان کا ڈرائیور۔ جو اسٹیرنگ پر بیٹھے تو بھی گاڑی شمسی صاحب ہی چلاتے ہیں۔ برسوں کی جانفشانی (جو اکثر ڈرائیوروں کی طرف سے ہوتی ہے) کے بعد اب انہیں رفیق نامی ایک ڈرائیور ملا ہے جو اپوزیشن کا ہوتے ہوئے بھی ان کی حکومت کے سنگات آہے۔‘‘


شمسی ساحب کو خدا نے بہت نوازا۔ خاصی طور پر ان کی سب سے بڑی دولت ان کا ہنستا مکسراتا گھر ہے۔’’گھرات سگلا بیس آہے‘‘ سچ ہے ان کے گھر میں رشتوں کے درمیان اس قدر ہم آہنگی اور ایک جہتی ہے کہ ڈھونڈنے سے اس کی مثال نہیں ملتی۔ عادل کی امی بلقیس شمسی یا ظفر کی امی حمیدہ شمسی یہ بتانا جیسے قریبی احباب کے لیے آج بھی انتہائی مشکل ہے۔

اپنی ماں کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے شمسی صاحب آدمی کو پہچان کر دل میں رکھنے اور پیسے کو پہچان کر جیب میں رکھنے کے قائل ہیں۔ الحمدللہ ان کی جیب اب بھر چکی ہے اور دل بھی… جان کی امان پاؤں تو عرض کروں کہ جیب اتنی مضبوط سلواتے ہیں کہ کیا مجال ایک سکہ بھی اِدھر کا اُدھر جاگرے۔ اُن کی ذات سے مستفیض ہونا آسان ہے۔ مستفید ہونا ذرا مشکل ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وقتی فائدہ اُٹھانے والے لوگ ان سے بہت جلد شاکی یا باغی ہوجاتے ہیں۔

غم اور خوشی کی کیفیات ان کے یہاں بڑی ترتیب سے نظر آتی ہیں۔ وہ موڈ کو کبھی اپنے آپ پر حاوی نہیں ہونے دیتے۔ موڈ اُن کے اِرادے اور وعدے پر کبھی اثر انداز نہ ہوسکا۔ صبح کسی عزیز کی تدفین میں شریک ہیں، دوپہر میں کسی اسکول کے سالانہ جشن میں مہمان خصوصی ہیں، شام ۵؍بجے شادی میں شرکت کرنی ہے مغرب کے بعد مسجد میں مرکزی فلاح کی میٹنگ ہے۔ ۸؍بجے تنظیم الدین کا جلسہ اور رات دس بجے مستان تالاب پر واقع سماج وادی کے تہنیتی جلسے سے خطاب کرنا ہے۔ جیسا ماحول ویسا موڈ۔ جیسا پروگرام ویسی تقریر۔

میں ان کی زندگی کے نشیب و فراز دونوں دیکھے ہیں۔ نامساعد حالات میں وہ کبھی ٹوٹے نہیں، اُن کے چہرے پر ’’خوشی و غم کی لہروں کو بار ہا میں نے آتے جاتے دیکھا ہے… رشتوں کی آبیاری اور پاسداری میں انہیں کمال حاصل ہے۔ میں نے انہیں بلقیس بھابھی کے برادر منصور برادران پر محبتوں کے پھول نچھاور کرتے ہوئے دیکھا ہے اور کبھی رشتوں کو لے کر افسردہ و ملول بھی ہوتے ہوئے بھی۔ انہیں اعزازات و منصب کی ہوس نہیں وہ تو محبت چاہتے ہیں اپنوں سے بھی اور غیروں سے بھی۔ کئی سیاسی پارٹیوں نے انہیں اپنا ہمنوا بنانے کے لیے بڑے بڑے عہدوں کی پیش کش کی ، لیکن وہ نہیں مانے۔ وہ مزا جاً الیکشن کے نہیں نومینیشن کے آدمی ہیں۔ سماج وادی پارٹی سے ان کی دل بستگی اور وابستگی پارٹی کے صدر ابو عاصم اعظمی کی مجاہدانہ کوشش اور نیک جذبہ ہے جس کا ایک عالم معترف ہے۔

مرحوم ضیاء الدین نجاری، دلیپ کمار ، عبدالرحمن انتولے، ڈاکٹر اسحق جمخانہ والا، سمیع خطیب، فقیر محمد مستری اور عبدالرزق کالیسکر جیسے جید دانشوران قوم اور ہمدردان قوم کے تجربوں اور مشاہدوں نے انہیں جو بھی حاصل کیا اسے نہ صرف سنبھالا بلکہ آنے والی نسلوں میں تقسیم بھی کیا ہے۔ وہ دورانِ گفتگو اپنے بیتے دِنوں کو یاد کرکے آبدیدہ ہوجاتے ہیں۔ خاص طور پر اپنے دو محسنوں کا ذکر ضرور کرتے ہیں۔ مرحوم عبدالحمید بوبیرے، مدیر صبح امیداور ایڈوکیٹ نصیر الدین انگوکرکا جن کے سفارشی خط اور محبت کی چاشنی سے بھرپور چائے کی ایک پیالی نے انہیں اس وقت حوصلہ دیا تھا جب شہر میں انہیں کوئی نہیں جانتا تھا۔ غیر کوکنیوں میں شمسی صاحب کی بے انتہا مقبولیت کو کنی حضرات کے لیے ہمیشہ تشویش ناک رہی ہے …لیکن ان کی یہی خوبی انہیں دیگر سرکردہ شخصیات سے ممتاز کرتی ہے۔ وہ اس اعتبار سے ہر فن مولا ہیں کہ مولا نے انہیں ہر فن میں مہارت دی ہے۔ نظامت کی تو شاعروں سے زیادہ داد بٹوری، صدارت کی تو بڑے بڑوں کی صدارت ماند پڑ گئی، مہمان خصوصی بنے تو محفل میں ان کے علاوہ کوئی مہمان نظر نہیں آیا، جس کتاب کا اجراء فرمایا اسے مقبول بنا دیا۔ جس دُکان کا افتتاح کیا وہ چل پڑی۔

بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ شعر فہمی کے ساتھ ساتھ ان میں شعر کہنے کی صلاحت بدرجہ اتم موجود ہے لیکن یہ میدان انہوں نے چھوڑ دیا۔ ٹھیک کیا ورنہ اُردو شاعری اپنے ایک ذہین قاری و سامع سے محروم ہوجاتی وہ ایک بہترین نثر نگار ہیں۔ ثبوت کے طور پر کئی اہم کتابوں پر لکھے گئے ان کے پیش لفظ اور دیباچے پیش کیے جاسکتے ہیں۔ ابتداء میں انہوں نے شاعری کے علاوہ بچوں کے لیے کہانیاں بھی لکھیں، روزنامہ ہندوستان میں بچوں کا صفحہ کھلتی کلیاں برسوں تک ترتیب دیتے رہے… دوردشن پر اُردو پراگراموں کی ابتدائی پیش کش میں بھی وہ چھائے رہے۔

ڈاکٹر نذیر جوالے سے لے کر مرزا انور بیگ تک ، ڈاکٹر مینن سے لے کر حکیم محمود دریابادی تک ، ملک کے متعدد ڈاکٹرس اور حکیموں سے ان کے گہرے روابط ہیں۔ شاید ان کی قومی صحت کا راز بھی یہی ہے۔ وہ بیماروں کی عیادت ہی نہیں کرتے بلکہ طبی مشوروں سے ان کا علاج بھی کرتے ہیں۔ اپنی گاڑی میں بٹھا کر بیمار دوستوں کو پہلے شالیمار ہوٹل لے جا کر بھائی شہاب الدین کا مہمان بنانا پھر ڈاکٹر کے پاس علاج کے لیے لے جانا ان کا محبوب مشغلہ ہے۔ وہ جیتے مقبول ہیں ۔ ان کی سج دھج بھی اتنی ہی مشہور ہے۔ صبح گھر سے ’’تیار ‘‘ ہو کر ۱۴؍کاموں کی ترتیب کے ساتھ نکلتے ہیں اور ۱۸؍ کام کر کے لوٹتے ہیں۔ اپنے مراسم کو صیغۂ راز میں رکھ کر وہ آنے والی مصیبتوں کو بڑے سلیقے سے سمجھا بجھا کر لوٹا دیتے ہیں۔ انہیں بھائی جان ’’کہہ کر مخاطب کرنے والے جانتے ہیں کہ انہوں نے ان گنت خاندانوں کے ذاتی مسائل کو خوش اسلوبی سے سلجھایا ہے کئی معاملات ان کی وجہ سے ٹلے اور کئی رشتے ان کی وجہ سے سنبھلے ہیں۔ پریشانی کے لمحے میں وہ اپنی ہر الجھن کو ناخن پر رکھ کر چھوٹے بچوں کی طرح دانت تک لے جاتے ہوئے آدابِ محفل کے خیال سے رُک جاتے ہیں اور دوسرے ہاتھ کی انگلی سے اس ناخن کو فیض پہنچاتے ہیں۔ بس پریشانی ختم۔ اپنی ہر مصیبت کا حل وہ احادیث اور بزرگوں کے قول میں تلاش کرتے ہیں۔ کبھی مولانا آزاد کی کوئی بصیرت آموز بات اور کبھی الرسالہ کی کوئی روشن تحریر پر ان کی گفتگو کا پیش لفظ بنتی ہیں۔

میں زندگی بھر ممنو ن رہوں گا بھائی افتخار امام صدیقی کا جنہوں نے شمسی صاحب سے مرحوم محمد کمال کے اعزاز میں منعقد شعری نشست میں مجھے پہلی بار ملوایا۔ شمسی صاحب ان دِنوں شہر ممبئی کی فلک بوس عمارت آکاش میں رہتے تھے۔ اس بات کو تقریبا ۲۲؍سال گذر چکے ہیں۔ وہ وسعت اور بلندی انہیں آج بھی میسر ہے وہ آج بھی آکاش پر ہیں۔ ہمارے لیے واقعی وہ آکاش ہیں… آدرش ہیں۔

جن دِنوں ان سے میری ملاقات ہوئی وہ اپنے ایک دوست کابلی خان کے ساتھ کاروبار میں شریک تھے۔ چھوٹا سا کاروبار تھا مگر زندگی بڑی شان و شوکت والی۔ ایک لمبی سی امبیسڈر کار جو مختلف تہواروں اور تقریبات میں اپنا رنگ بدل کر ہمیشہ نئی نظر آتی پھر اس کے بعد فیاٹ اور اب فورڈ… امبیسڈر سے فورڈ تک کا سفر انہوں نے خاموشی سے طے کیا کہ کسی کو کانوں کان تک خبر نہ ہوئی۔

معلمی کے پیشے سے اپنی عملی زندگی کی شروعات کرنے والے علی ایم شمسی یونین بینک سے ہوتے ہوئے نئی ممبئی کے ایک مشہور بلڈر کے درجے تک پہنچے ہیں۔ مالی حالات میں جس قدر کشادگی ہوئی مزاج میں اتنی ہی غریبی بڑھتی گئی یہ ہے علی ایم شمسی کی سب سے اہم خوبی۔

ان کے چاہنے والوں کا شمار انگلیوں پر ممکن نہیں، شہر سے دور آپ کسی جنگل میں چلے جائیں کوئی نہ کوئی شاخ علی ایم شمسی کے نام سے جھومتی اور جھولتی نظر آئے گی۔ بقول شاعر انہوں نے شہر کے ہر کوچے میں اپنا اک دل ہارا ہے۔ قلابہ میں یہ دل ابو عاصم اور عثمان مالونکر بن کر دھڑکتا ہے۔ ڈونگری پر حسن رومانے ہے، ناگپاڑہ پر عزیز مکی اور ناصر بلساری ہے۔ مدنپورہ میں جمیلہ آصف جمعدار، باندرہ میں غلام پیش امام اور ندیم دادر کر ہیںاور کرلا نے ان پر نچھاور ہونے کی انتہا کر دی کہ وہاں کے ہر محلہ کا کم از کم ایک پورا گھر ان کا گرویدہ ہے۔ مرحوم عبدالطیف سرجن کی اچانک موت نے ہم سب کو سکتے میں ڈال دیا جب تک جیے ۰۱؍جنوری کی صبح شاہد شیخ کے ساتھ علی ایم شمسی کے گھر پھول لے جانا نہیں بھولے… یہ جاں نثاری نہیں تو اور کیا ہے۔

میرا نام بھی ان کے جانثاروں میں شامل ہے۔ یہی میری محبت کا صلہ مجھے حوصلہ دیتا ہے۔ مجھے اور شاہد لطیف کو اپنی دو آنکھ سمجھنے والے علی ایم شمسی ان دِنوں فاروق سید کو اپنی تیسری آنکھ بنانے پر مصر ہیں۔ یہ ان کی حِسّی صلاحیت کا نمونہ ہے کہ وہ آدمی میں چھپے جوہر کو بآسانی تلاش کر لیتے ہیں۔ ایک کامیاب جوہری کی طرح یہ بات میرے لیے حسد طلب کم رشک طلب زیادہ ہے۔ ان کا موبائل آج کل فاروق سید پر بہت مہربان ہے اور دلچسپ بات تو یہ ہے کہ جب تک ہمارا فون جائے فاروق سید کا فون ڈیڈ ہوجاتا ہے۔

ان کے برجستہ جملوں اور شاعرانہ طرز بیان کو بہت سوں نے اپنی تقریر کا تمہیدی حصہ بنایا ہے ۔ میں بھی اس زلف کا سیر ہوں یہ ان کے افکار و ادراک کا کمال ہے۔ مجھ جیسے اُردو کے طالب علم کو لیکچر میں ان کی مستند باتوں کو حوالے کے طور پر پیش کرنے میں خوشی محسوس ہوتی ہے۔ ان کی ذات نے ہماری زندگی کے مختلف گوشوں پر اثرات چھوڑے ہیں۔ ہم میں سے بیشتر شعراء نے ان کی شخصیت کو اپنی شاعری میں تلاش کیا ہے اور پایا بھی ہے۔

مجھ میں جو شاعر ہے اس نے بھی کوشش کی ہے ایک ہی شعر کو ہم مختلف موقعوں پر مختلف لوگوں کی نذر کرتے ہیں، لیکن میں نے ایک شعر صرف اور صرف شمسی صاحب کے لیے کہا ہے اور اس شعر کی اتنی ہی وضاحت کافی ہے کہ یہ شعر      ؎

میں اپنی ذات میں کچھ بھی نہیں لیکن کئی سورج
مرے آگے تو چلتے ہیں مرے پیچھے بھی آتے ہیں

ان کی شخصیت کے تمام پہلوؤں کو احاطہ تحریر میں لانا بہت مشکل ہے۔ جشنِ شمسی ، بزم شمسی کا ایک دیرینہ خواب ہے۔ الحمد للہ جس کی تکمیل ہورہی ہے۔ ایک قرض تھا ہم پر شمسی صاحب کی محبتوں کا جو اُتر نہیں سکتا… مگر… ایک فرض ہے جس کا ادا ہونا ضروری ہے۔ شخصیتوں کی خدمات کے اعتراف میں ہونے والے جشن اب اپنی اہمیت کھوتے جارہے ہیں لیکن یہ جشن محبتوں اور خلوص کا اظہار ہے۔ اس میں صاحب جشن کی سرخی کے علاوہ سب شامل ہے۔ محبت عقیدت خلوص اور پیار۔ جہاں یہ جشن بھائی حسن چوگلے، یعقوب راہی اور سلطان مالدار کی کاوِش کا نتیجہ ہے وہاں چاہنے والوں اور محبت کرنے والوں کی جانب سے ایک تحفہ بھی ہے۔ علی ایم شمسی اور ان کے اہل خانہ کے لیے۔ ایک ایسا موقعہ ہے جہاں ہم سب مل کر شمسی صاحب کی درازی عمر اور سلامتی کی دعائیں کریں گے۔ پہلی ملاقات سے آج تک وہ میرے ساتھ اور میں ان کے ساتھ، خدا اس محبت کو نظر بد سے بچائے۔ خدا سے دُعا ہے کہ میرے سر پر ان کا شفیق سایہ سدا سلامت رہے۔ (آمین)


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Bottom Ad