کھیڈ کھاڑی پٹّہ کے گاؤں مُول گاؤں (سونس بُدرُک) میں جنگلاتی آگ سے ہزاروں ہیکٹر جنگلات کی تباہی - Aks-e-Kokan

Home Top Ad

Post Top Ad

جمعہ، 2 اپریل، 2021

کھیڈ کھاڑی پٹّہ کے گاؤں مُول گاؤں (سونس بُدرُک) میں جنگلاتی آگ سے ہزاروں ہیکٹر جنگلات کی تباہی

 کھیڈ کھاڑی پٹّہ کے گاؤں مُول گاؤں (سونس بُدرُک) میں جنگلاتی آگ سے ہزاروں ہیکٹر جنگلات کی تباہی



کرجی (رفیق پرکار) موسم گرما کے شروع ہوتے ہی کوکن کے پہاڑوں پر جنگلاتی آگ کے شعلے نظر آنے لگتے ہیں، راتوں میں کوکن کے علاقے میں پہاڑوں پر آگ کے شعلوں کی لپٹیں دکھنا ایک عام بات ہوگئی ہے، پر نہ عوام،نہ سیاستدان، نہ محکمہ جنگلات اور نہ ہی محکمہ پولیس اسکی جانب سنجیدگی سے کوئی اقدامات لینے کو تیار ہیں.
پچھلے دنوں کھیڈ تعلقہ کے گاؤں مُول گاؤں کے پہاڑوں پر جنگلاتی آگ کئی دنوں تک تباہی مچاتی رہی جس سے ہزاروں ہیکٹر قدرتی جنگلات جل کر خاکستر ہوگئے جسمیں آم، کاجو، جامن، کوکم، آملہ، کٹھل اور بیری جیسے پھلدار درخت اور ساگوان، این، کھیر، آسان، شِیوَن، نانیاں اور نیمبارہ جیسے عمارتی لکڑی کے درخت اور جنگلاتی ادویاتی پودے شامل ہیں اور درختوں کے چھوٹے پودے بھی جل کر ختم ہو جاتے ہیں جس سے جنگلات کی افزائش رک جاتی ہے جو ماحولیاتی تبدیلیوں کی ذمہ دار بنتی ہے. جنگلات کے کم ہونے کی وجہ سے ہی آج عالمی حدّت (Global Warming) ایک مسئلہ بن گئی ہے. 
جنگلاتی آگ جنگلی جانوروں اور پرندوں کیلئے بھی تباہ کن ثابت ہوتی ہے کیونکہ اس آگ میں انکی نوزائیدہ نسل جلتی ہے اور پرندوں کے گھونسلے خاکستر ہوتے ہیں، ان کا خاتمہ بھی ماحولیاتی تبدیلیوں کا باعث بنتا ہے. 
ہر سال کوکن کے علاقے میں جنگلاتی آگ ایک معمول بن گیا ہے پر ابھی تک متعلقہ حکام یہ نہیں معلوم کر سکے ہیں کہ یہ آگ حادثاتی طور پر لگتی ہے یا جان بوجھ کر لگائی جاتی ہے، کوکن کے بیشتر افراد نے اب کھیتی باڑی کو ترک کیا ہے جس کی وجہ سے اب موسم گرما میں جنگلاتی درختوں کی شاخیں (کَوَل) اور گھاس پھوس(گَوَت)  کھیتوں میں جلانے (بھازاوَن) کیلئے کاٹی نہیں جاتی اس وجہ سے جنگلات میں آگ تیزی سے پھیل کر بے قابو ہوجاتی ہے.
کوکنی عوام کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس طرح کی جنگلاتی آگ جان بوجھ کر نہ لگائیں اور اگر کوئی شخص اس طرح کی آگ لگانے میں ملوث ہے تو اس کو ایسا کرنے سے روکیں یا اسے پولیس کے حوالے کریں ورنہ وہ دن دور نہیں جب کوکن کی قدرتی خوبصورتی اور ہریالی ختم ہوکر یہ علاقہ ایک ریگستان میں تبدیل ہو سکتا ہے اور اس کے ذمہ دار ہم کوکنی افراد ہی ہونگے.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Bottom Ad