لاشیں بر آمد کر لی گئیں ۔پانی کا انداز نہ آنے سے موت کے منہ میں چلے گئے۔متوفی پونا کی ایک کمپنی میں ملازمت کرتے تھے۔ لاک ڈائون ختم ہونے کے بعد ساحلوں پر غرقابی کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
سراج شیخ
مروڈ جنجیرہ: ریاستی حکومت کی جانب سے کوکن کے ساحلوں، تاریخی عمارتوں اور دیگر تفریحی مقامات کو سیاحوں کے لئے کھول دئے جانے کے بعد یہاںبڑی تعداد میں لوگوں کا سیر تفریح کے لئے آنے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ساحلوں پر بھیڑ نظر آنے لگی ہے اور غرقابی کے واقعات بھی اب ہونے لگے ہیں۔ آج مروڈ جنجیرہ کا مشہور ومعروف کاشید بیچ پر شام کے وقت دو افراد کے ڈوبنے سے موت ہوگئی۔سمندر میں تیرنے کے لئے اترنے والے ان نوجوانوں کو پانی کی گہرائی کا انداز نہ آیا اور وہ لہروں کی نظر ہو گئے۔ساحل پر تعینات لائف گارڈ کو خبر ملتے ہی انہوں نے فورا سمندر مین چھلانگ لگائی اور ڈوبنے والے افراد کو باہر نکال لیا۔ بعد ازاں انہین بورلی کے سرکاری اسپتال میںلے جایا گیا جہاں داکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔اس ضمن میں ملنے والی اطلاعات کے مطابق متوفی کے نام پلٹو سوتردھار اور سرجیت نسکر ہیں جو پونا کی ایک کمپنی میں کام کرتے تھے۔
آج یہ لوگ اپنے ساتھیوں کے ساتھ کاشید بیچ پر سیر تفریح کے لئے آئے تھے۔ ان میںسے متذکرہ دونوں افراد تیرنے کے لئے سمندر میں اترے لیکن کچھ ہی دیر بعدان کی ڈوبنے سے موت ہو گئی۔ لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لئے بورلی مانڈلہ کے سرکاری اسپتال میں لے جایا گیا ہے۔بتایا گیا ہے کاشید کے ساحل سمندر پر تعینات لائف گارڈ نے ان نوجوانوں کو تیرنے کے لئے جانے سے منع کیا تھا اس کے با وجود انہوں نے لائف گارڈز کی ہدایتوں کو نظر انداز کیا اور موت کے منہ میں چلے گئے۔ شام کے وقت نسیم بحری کی رفتار تیز ہوتی ہیں اور سمندر میں مد و جذر اصغر کے سبب پانی میں تیرنا مشکل ہوتا ہے اس لئے ایسے وقت میں سیاحوں کو گہرے سمندر میں تیرنے سے منع کیا جاتا ہے لیکن اکثر ان ہدایتوں کو نوجوان نظر انداز کر دیتے ہیں اور کسی بڑے حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں۔کاشید بیچ کے لائف گارڈ نے بتایا کہ مروڈ، کاشید،علی باغ اور رائے گڑھ ضلع کے مختلف ساحلوں پر اس طرح کے حادثات ہوتے رہتے ہیں ۔ حالانکہ سبھی ساحلوں پر سائن بورڈ لگے ہین جن پر واضح ہدایات دی گئی ہیں اور اب تو زیادہ تر ساحلوں پر لائف گارڈ کے علاوہ پولیس بھی تعینات کر دئے گئے ہیں لیکن یہاں اآنے والے زیادہ تر نوجوان سیاح کسی کی ایک نہیں سنتے سبھی ہدایات پر عمل نہیں کرتے جس کے نتیجے میں وہ حادثوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مرنے والوں کا وطن مغری بنگال ہے جو فی الحال پونا میں بر سر روزگار تھے۔



کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں