کلبستے تعلقہ سنگمیشور ، ضلع رتناگری میںلڑکیوں کے لیے دینی اقامتی مدرسہ امِّ حبیبہ رضی اللہ عنھا کی افتتاحی تقریب - Aks-e-Kokan

Home Top Ad

Post Top Ad

جمعہ، 24 ستمبر، 2021

کلبستے تعلقہ سنگمیشور ، ضلع رتناگری میںلڑکیوں کے لیے دینی اقامتی مدرسہ امِّ حبیبہ رضی اللہ عنھا کی افتتاحی تقریب


 مدرسہ امِّ حبیبہ رضی اللہ عنھا کا قیام کلبستے بستی سنگمیشور میں وقت کی اشد ضرورت، ہم اپنی بات رکھنے سے قبل اوّلا باری تعالی کا شکر بجا لاتے ہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے اس عظیم کار خیر کی بنیاد و ترجمانی کے لیے ہم نا اہل کو منتخب فرمایا، دعاگو ہیں کہ اللہ تعالی جملہ مساعی کو شرفِ قبولیت بخشے اور تادمِ حیات خدمت کا موقع عنایت فرما کر ادارہ کو دن دگنی رات چگنی ترقیات سے مالا مال فرمائے (آمین)




الحمدللہ علی ذالک مدرسہ اُمّ حبیبہؓ کا قیام 12 صفرالمظفر سن ہجری 1443مطابق 20 ستمبر سن عیسوی 2021 بروز پیر کو بعد نمازِ عصر متصلاعمل میں آیا جسکا اِفتتاحی مختصر پروگرام منعقد کیا گیا،اجلاس کی ابتداءقاری اُسید مجگاونکر صاحب کی قرات سے ہوئ، حافظ عبدالقدوس نے نعت پیش کی بطورِ مہمانِ خصوصی مولانا نعیم پردیسی صاحب مفتی عادل صاحب اور مفتی فیصل پرکار صاحب تھے۔

حضرت مولانا نعیم پردیسی صاحب نے اپنے خطاب میں امت کو دعوت الی اللہ کے ساتھ دل میں اللہ رس بس جائے اسکی بہترین ترغیب دی عصرِحاضر کے حالات سے واقفیت دلاتے ہوئے مدارس کی اہمیت افادیت اور اسکے بقاو تحفظ پر لوگوں کو ابھارا،مزید مدارس میں پڑھنے والے طلباءو طالبات کا حسن انجام اور کامیاب زندگی کیسے گزرتی ہے اس پر روشنی ڈالتے ہوئے اس بات کی ترغیب دی کہ امت کے بیٹیوں کے ایمان کو کالج و یونیورسیٹی میں پڑھنے کے ساتھ کیسے محفوظ رکھا جائے۔نیز یہ بات بھی واضح انداز میں بیان کی کہ مرد کا علم گھر کے دروازے کی چوکھٹ تک اور عورت کا علم گھر کے چار دیواری کے اندر ہوتا ہے،جب وہ کچن میں کھانا پکاتے وقت اشیاءکو اٹھاۓ مثلا ٹماٹر کو لے تو اللہ کی صنعت و کاری گیری پر غور و خوض کرے کہ کسان نے ایک بیچ بویا وہ زمین میں سڑ گل گیا پھراللہ نے اس سے پودا اگایا پھر موسلادھار بارش و سیلاب کے باوجود اللہ نے اسکی حفاظت کی آسمان سے زمین پر سورج کی شعاعوں اور اسکی کرنوں سے اسکو دھوپ پہنچاٸ پھر پھولا پھلا اور آج میرے ہاتھ میں ہے،یہ یقین بنانے اور بچانے کے لیےمدارس کا قیام ضروری ہے، حضرت مفتی عادل ہوڑیکر صاحب نے مختصر اور اجمالی خطاب میں مدارس میں پڑھنے والے طلباءو طالبات کا یقین اللہ کیساتھ کیسے مستحکم و مضبوط ہو تا ہے اسکو بیا ن کرتے ہوئےایک واقعہ نقل کیا، کہ ایک بچی جو مدرسہ میں تعلیم حاصل کرتی تھی آخری سال جاری تھاکہ یکایک پیٹ دردشروع ہواکافی علاج معالجہ کے بعد نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ اسکو کینسر کی بیماری ہے بچی کے والدین حیران و پریشان تھے جب بچی کے پوچھنے پر والدین نے بتایا تو بچی نے اللہ کی ذات پر کامل یقین رکھتے ہوئے یہ کہا کہ ابّاجی مجھے کینسر نہیں ہو سکتا کیوں کہ میں نے جناب نبی کریم ﷺ کی حدیث مبارکہ پڑھی ہوں جب بندہ سی مریض کو دیکھ کر یہ دعاءپڑھتا ہے الحمد للہ الذی عافانی مماابتلاک بہ و فضلنی علی کثیر ممن خلق تفضیلا تو اللہ اسکو اس مرض میں مبتلا ہونے سے محفوظ رکھتے ہیں،اور یہ دعاءمیں نے کئی بار پڑھی ہوں،مجھے یقین ہے کہ مجھے کینسر نہیں ہوا ہے۔بالاخر بڑے بڑے رپوٹ کروائیگئی مگر اللہ کا کرنا اور اس مدرسہ میں پڑھنے والی بچی کا یقین کہ رپورٹ آئی کہ کینسر ہونے کے سارے اسباب اسکے جسم میں موجود ہے مگر کینسر نہیں ہے الله اکبر اسی طرح حضرت مفتی فیصل پرکار صاحب نے مختلف واقعات کے ذریعہ قلوب مومنین کو ایمان کی جلا بخشی اور یہ کہا کہ مرد پڑھا فرد پڑھا عورت پڑھی خاندان پڑھا مزید یہ بیان کیا کہ ہر کامیاب مرد کےپیچھے ایک نیک و تعلیم یافتہ خاتون کا ہاتھ ہوتا ہے، حضرت مولانا قاری مجتبیٰ ابن شفیع ابجی (صدر انجمن اتحادالحفاظ والعلماءمہتمم و بانی مدرسہ امّ حبیبہ ؓ ) نے اغراض و مقاصد کو بیان کرتے ہوئے موجودہ مدرسہ کی صورتحال اور تأثرات اور علاقہ میں اسکی اشد ضرورت کو بیان کرتے ہوئےحاضرین مجلس و دیگر حضرات بالخصوص کلبستہ بستی کے تمام ذمہ داران اور بستی والوں کا شکریہ ادا کیا مزید یہ عرض کیا کہ بستی والوں نے کافی ساتھ دیا آئندہ بھی ان شا اللہ بھر پور ہر ساعت میں ساتھ دینے کا عزم مصمم کیا ہے اللہ قبول کرے آمین اور اس بات کا بھی اظھار کیا کہ دو حضرات (المرحوم اقبال نیوریکر صاحب اور المرحوم یوسف نیوریکر صاحب) نے ما قبل میں کافی عرصہ پہلے اپنی حیاتی میں اپنی آخرت اور جنت سنوارنے کے لیے اپنی زمین بھی فی سبیل اللہ وقف کی ہے جس پر ان شااللہ جلد از جلد تعمیری کام شروع کیا جائےگا اور با ضابطہ نظام تعلیم کیساتھ جاری ادارہ کی شکل نظر آئے گی، اجلاس میں بستی کے علاوہ قرب و جوار سے بہت سے دانشوران قوم و ملت اور علماءبالخصوص حافظ سھیل مفتی رمیز حافظ ریاض حافظ عبدالقدوس حافظ طارق حافظ خالد حافظ شوکت مولانا زید حافظ رزین نے شرکت کی پھر ایک بار حضرت مولانا قاری مجتبیٰ ابجی صاحب نے بصمیم قلب بستی والوں بالخصوص احمد بھائی، امجد بھائی، اکبر بھائی، امداد بھائی، رفیق بھائی، پرویز بھائی، عبدالمجید بھائی، اقبال بھائی، آصف بھائی،  عارف بھائی، صلاح الدین بھائی، محمد بھائی، نصیر بھائی اور تمام جنھوں کام کیا کام میں معاونت کی محبت کی نگاہ سے دیکھا دعاؤں اور مشوروں سے نوازا سبکا شکریہ ادا کیا آخر میں حافظ عیسیٰ الجی صاحب کی رقت آمیز دعائیہ کلمات پر مجلس اختتام پزیر ہوئی۔ بارگاہ ایزدی میں دعاءہیکہ اللہ سبحانہ وتعالی شرف قبولیت بخشے اور تا قیامت ادارہ کو جاری و ساری فرمائی اور علاقہ و اطراف علاقہ میں بلکہ سارے عالم میں اس کے فیض کو عام و تام فرما ۓ اور اللہ تمام کی مساعی جمیلہ کو مقبول و منظور کرے آمین

پیش کردہ:من جانب

 انجمن اتحادالحفاظ والعلما، رتناگری


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Bottom Ad